پڑھانے میں اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کی نیت ہو، جتنے وقت کا اِجارہ کیا گیا ہے اُس میں دِیانت داری سے پڑھایا جائے اور اِس کام کو سرانجام دینے میں عُرف (یعنی معمول) سے ہٹ کر کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
اگر ہم کمیشن دینے پر رضا مند نہ ہوں تو وہ کسی اور کی کوٹیشن اوکے کردے گا۔ تو کیا ہم کوٹیشن اوکے کروانے کے لیے اس شرط کو مان سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس شرط پر ہم کام لے کر مینیجر کو کمیشن دے سکتے ہیں یا نہیں؟
حدیثِ پاک میں ہے: ’’تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاندکو دیکھ رہے ہو۔‘‘یعنی آخرت میں اللہ پاک کا دیدار اس طرح شک وشبہ سے بالاتر ہوگا جیسے چاند کا دیکھنا شک وشبہ سے بالا تر ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ عورتوں، مردوں، بزرگوں اور بچوں پر مشتمل ایک قافلہ عرب کے کسی علاقے سے گزر رہا تھا، جہاں ڈاکو پہلے سے اُن کے لیے گھات لگائے بیٹھے تھے۔جیسے ہی یہ قافلہ قریب پہنچا تو ڈاکوؤں نے اِن پر حملہ کر دیا۔